پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر

مصحفی غلام ہمدانی

پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر

    رہ جائے جیسے کوئی بسمل تڑپ تڑپ کر

    مجنون بے خرد نے دی جاں بہ ناامیدی

    لیلیٰ کا دیکھتے ہی محمل تڑپ تڑپ کر

    کہیو صبا جو جاوے مذبوح غم نے تیرے

    آسان کی شب اپنی مشکل تڑپ تڑپ کر

    اس پردگی نے اپنا آنچل نہیں دکھایا

    مر مر گئے ہیں اس کے مائل تڑپ تڑپ کر

    قاتل کا میرے کوچہ ہے خواب گاہ راحت

    کیا کیا نہ سو رہے یاں گھائل تڑپ تڑپ کر

    حال اس غریق کا ہے جائے ترحم اے دل

    رہ جائے ہے جو زیر ساحل تڑپ تڑپ کر

    قابو میں آئے پر میں چھوڑا نہ اس کو ہرگز

    بل کھا کے گرچہ نکلا قاتل تڑپ تڑپ کر

    تو نے تو آبرو ہی کھو دی ہماری اے دل

    مقتل میں عاشقوں کے شامل تڑپ تڑپ کر

    جھمکے دکھا کے اس کو تو نے جو منہ دکھایا

    مر ہی گیا نہ تیرا سائل تڑپ تڑپ کر

    گو مرغ نامہ بر کو بسمل کیا ہے اس نے

    طے کر رہے گا آخر منزل تڑپ تڑپ کر

    فرقت میں اس کی تو نے اے مصحفیؔ بتا تو

    جز اشک خوں کیا کیا حاصل تڑپ تڑپ کر

    مجھ کو یہ سوجھتا ہے ناحق تو جان دے گا

    اک دن اسی طرح سے جاہل تڑپ تڑپ کر

    مآخذ
    • کتاب : Ghulam hamdani Mashafi (Pg. 139)
    • Author : Ghulam hamdani Mashafi
    • مطبع : Qaumi council baraye -farogh urdu (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY