پیغام زندگی ہے خوشی کی نوید ہے

سبیلہ انعام صدیقی

پیغام زندگی ہے خوشی کی نوید ہے

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    پیغام زندگی ہے خوشی کی نوید ہے

    میرے لیے تو آپ کا دیدار عید ہے

    کس نے کہا ہے زیست مرے نام کیجیے

    دو پل بھی ساتھ آپ کا عید سعید ہے

    اک آرزو ہے آپ مرے ہم سفر بنیں

    تا عمر دیکھتی رہوں یہ شوق دید ہے

    دل ڈوب جائے گا مرا بارش میں پیار کی

    سیلاب عشق آنے کی شاید شنید ہے

    ہر وقت میرے لب پہ رہی ہے یہی دعا

    مل جائے وہ کہ جس کا مرا دل مرید ہے

    بیٹھے ہیں بت بنے ہوئے ایسے وہ سامنے

    ہونے کو اب نگاہ سے گفت و شنید ہے

    بے شک سبیلہؔ میں نے رقم کی ہے ہے داستاں

    لیکن نیا خیال ہے لہجہ جدید ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY