پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے

بیدم شاہ وارثی

پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے

    بڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہے

    جل گئی شاخ آشیاں مٹ گیا تیرا گلستاں

    بلبل خانماں خراب اب کہیں تیرا گھر بھی ہے

    اب نہ وہ شام شام ہے اپنی نہ وہ سحر سحر

    ہونے کو یوں تو روز ہی شام بھی ہے سحر بھی ہے

    چاہے جسے بنائیے اپنا نشانۂ نظر

    زد پہ تمہارے تیر کے دل بھی ہے اور جگر بھی ہے

    دن کو اسی سے روشنی شب کو اسی سے چاندنی

    سچ تو یہ ہے کہ روئے یار شمس بھی ہے قمر بھی ہے

    زلف بہ دوش بے نقاب گھر سے نکل کھڑے ہوئے

    اب تو سمجھ گئے حضور نالوں میں کچھ اثر بھی ہے

    بیدمؔ خستہ کا مزار آپ تو چل کے دیکھیے

    شمع بنا ہے داغ دل بیکسی نوحہ گر بھی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے