پتہ کیسے چلے دنیا کو قصر دل کے جلنے کا

اقبال ساجد

پتہ کیسے چلے دنیا کو قصر دل کے جلنے کا

اقبال ساجد

MORE BY اقبال ساجد

    پتہ کیسے چلے دنیا کو قصر دل کے جلنے کا

    دھوئیں کو راستہ ملتا نہیں باہر نکلنے کا

    بتا پھولوں کی مسند سے اتر کے تجھ پہ کیا گزری

    مرا کیا میں تو عادی ہو گیا کانٹوں پہ چلنے کا

    مرے گھر سے زیادہ دور صحرا بھی نہیں لیکن

    اداسی نام ہی لیتی نہیں باہر نکلنے کا

    چڑھے گا زہر خوشبو کا اسے آہستہ آہستہ

    کبھی بھگتے گا وہ خمیازہ پھولوں کو مسلنے کا

    مسلسل جاگنے کے بعد خواہش روٹھ جاتی ہے

    چلن سیکھا ہے بچے کی طرح اس نے مچلنے کا

    زر دل لے کے پہنچا تھا متاع جاں بھی کھو بیٹھا

    دیا اس نے نہ موقع بھی کف افسوس ملنے کا

    خوشی سے کون کرتا ہے غموں کی پرورش ساجدؔ

    کسے ہے شوق لوگو درد کے سانچے میں ڈھلنے کا

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-iqbaal saajid (Pg. 276)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY