پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر

جعفر شیرازی

پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر

    کہاں کہاں سے ملی ہے مجھ کو خبر بہت دیر بعد جا کر

    میں مدتوں سقف زندگی پر کھڑے کھڑے تم کو دیکھ آیا

    یہ تم بھی کیا ہو کہ آئے مجھ کو نظر بہت دیر بعد جا کر

    مری تمنا ہے اب کے تم پھر ملو تو جی بھر کے مسکرائیں

    کہ دیکھنا ہے یہ روشنی کا سفر بہت دیر بعد جا کر

    مجھے بتاؤ میں کیوں نہ اس اٹھتی دھول کے ساتھ بیٹھ جاؤں

    مجھے خبر ہے وہ آئے گا بام پر بہت دیر بعد جا کر

    خراب موسم میں ہر شجر سے لرزتے پتوں نے کیا کہا تھا

    کہ پھول آنے لگے ہیں اب شاخ پر بہت دیر بعد جا کر

    قیامتوں کی طرح گزاریں گے یہ مہ و سال ہجرتوں کے

    تمام ہوگا جدائیوں کا سفر بہت دیر بعد جا کر

    مری غزل میں جب آئے جعفرؔ نظر انہیں معرکے ہنر کے

    ہوئے مرے معترف سب اہل نظر بہت دیر بعد جا کر

    مآخذ
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 402)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY