پتہ نہیں کہ کہاں چل دئیے وہ سارے لوگ

شہاب الدین ثاقب

پتہ نہیں کہ کہاں چل دئیے وہ سارے لوگ

شہاب الدین ثاقب

MORE BYشہاب الدین ثاقب

    پتہ نہیں کہ کہاں چل دئیے وہ سارے لوگ

    ہمارے شہر میں تھے کتنے پیارے پیارے لوگ

    جنہیں سفینہ میسر ہوا وہ پار لگے

    کھڑے ہوئے ہیں بہت سے مگر کنارے لوگ

    چراغ لے کے نکلتے نہیں ہیں راہوں میں

    سمجھ چکے ہیں ہواؤں کے سب اشارے لوگ

    شکست کھانے کا جو رنج تھا سو اپنی جگہ

    ملال یہ ہے کہ اب حوصلہ بھی ہارے لوگ

    عجیب بات کہ ہیں ڈھونڈتے بیاباں میں

    گھنے درخت کا سایہ تھکن کے مارے لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے