پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم

انیس انصاری

پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم

انیس انصاری

MORE BYانیس انصاری

    پتھریلی سی شام میں تم نے ایسے یاد کیا جانم

    ساری رات تمہاری خاطر میں نے زہر پیا جانم

    سورج کی مانند بنا ہوں ریزہ ریزہ بکھرا ہوں

    اب جیون کا سر چشمہ ہوں ویسے خوب جلا جانم

    تم نے مجھ میں جو کچھ کھویا اس کی قیمت تم جانو

    میں نے تم سے جو کچھ پایا ہے وہ بیش بہا جانم

    تم کو بھی پہچان نہیں ہے شاید میری الجھن کی

    لیکن ہم ملتے رہتے تو اچھا ہی رہتا جانم

    یہ صاحب جن سے مل کر سب کا جی خوش ہو جاتا ہے

    رات گئے تک ان کے کمرے میں جلتا ہے کیا جانم

    رکھ پاؤ تو روک لو ہم کو گہرائی کے باسی ہیں

    بہتے پانی کے قطروں میں ہوتا ہے دریا جانم

    درد جدائی میں لکھے ہیں شعر تمہارے نام بہت

    تم میرے گھر میں رہتیں تو کیا ایسا ہوتا جانم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY