پتے تمام حلقۂ صرصر میں رہ گئے

رؤف خیر

پتے تمام حلقۂ صرصر میں رہ گئے

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    پتے تمام حلقۂ صرصر میں رہ گئے

    ہم شاخ سبز میں شجر تر میں رہ گئے

    لکھ لینا اس قدر وہ سفینے نہیں مرے

    ساحل پہ رہ گئے جو سمندر میں رہ گئے

    اس لذت سفر کو میں اب ان سے کیا کہوں

    جو سایہ ہائے سرو و صنوبر میں رہ گئے

    آثار یک خرابۂ آباد ہو کے ہم

    سینوں میں رہ نہ پائے تو پتھر میں رہ گئے

    باہر ہی چھوڑ آئے وہ چہرہ جو خاص تھا

    اک عام آدمی کی طرح گھر میں رہ گئے

    رسوا انہیں بدن کے تقاضوں نے کر دیا

    کیا لوگ تھے جو ٹوٹ کے پل بھر میں رہ گئے

    تم تو انا کا ایک جزیرہ ہو سوچ لو

    ایسے کئی جزیرے سمندر میں رہ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY