پتھروں میں آئنا موجود ہے

ثروت حسین

پتھروں میں آئنا موجود ہے

ثروت حسین

MORE BY ثروت حسین

    پتھروں میں آئنا موجود ہے

    یعنی مجھ میں دوسرا موجود ہے

    زمزمہ پیرا کوئی تو ہے یہاں

    صحن گلشن میں ہوا موجود ہے

    خواب ہو کر رہ گیا اپنے لیے

    جاگ اٹھنے کی سزا موجود ہے

    اک سمندر ہے دل عشاق میں

    جس میں ہر موج بلا موجود ہے

    آسمانی گھنٹیوں کے شور میں

    اس بدن کی ہر صدا موجود ہے

    میں کتاب خاک کھولوں تو کھلے

    کیا نہیں موجود کیا موجود ہے

    جنت ارضی بلاتی ہے تمہیں

    آؤ ثروتؔ راستہ موجود ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY