پیڑوں کی چھانو تازہ ہوا چھین لی گئی
پیڑوں کی چھانو تازہ ہوا چھین لی گئی
ان بستیوں سے ان کی فضا چھین لی گئی
ان کے بلند ہاتھ قلم کر دئے گئے
ان کے لبوں سے ان کی دعا چھین لی گئی
بے خد و خال شور کا حصہ بنا دیا
ایسے صدائے خلق خدا چھین لی گئی
جینا وہ چاہتے تھے تو جینے نہیں دیا
مرنے چلے تو ان سے قضا چھین لی گئی
پھر ظالموں نے آگ لگا دی خیام میں
پھر عورتوں کے سر سے ردا چھین لی گئی
Subh Bakhair Zindagi
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.