پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں

جہانزیب ساحر

پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں

جہانزیب ساحر

MORE BYجہانزیب ساحر

    پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں

    دکھ ہے کچھ اور مری جان مسافت کا نہیں

    ہم مضافات سے آئے ہوئے لوگوں کا میاں

    مسئلہ رزق کا ہوتا ہے محبت کا نہیں

    جسم کی جیت کوئی جیت نہیں میرے لیے

    یہ وہ سامان ہے جو میری ضرورت کا نہیں

    تھوڑی کوشش سے ہی آ جاتی ہے اب نیند مجھے

    اس کا مطلب ہے کہ وہ میری طبیعت کا نہیں

    یہ تو خود چل کے نشانے پہ لگے ہیں تیرے

    دخل اس میں تو کوئی تیری مہارت کا نہیں

    روز دریا میں جو اک پھول بہا دیتا ہوں

    یہ کسی دکھ کا اشارہ ہے عقیدت کا نہیں

    ہم ہیں ہارے ہوئے لشکر کے سپاہی ساحرؔ

    فائدہ ہم کو کسی کی بھی حمایت کا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY