پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

آرزو لکھنوی

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

آرزو لکھنوی

MORE BYآرزو لکھنوی

    پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

    خندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا

    دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئی

    بیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا

    حسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندا

    اپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا

    کون کہے قسمت پلٹی یا مت پلٹی سیلانی کی

    رستہ کاٹ کے جانے والا آج ادھر بھی بھول پڑا

    حال نہیں جینے کے قابل آس نہیں مرنے دیتی

    ایڑیاں رگڑے آخر کب تک خاک پر اک مقتول پڑا

    جتنے حسن آباد میں پہنچے ہوش و خرد کھو کر پہنچے

    مال بھی تو اتنے کا نہیں اب جتنا کچھ محصول پڑا

    راہ وفا تھی ٹیڑھی بگڑی تھی ہر گام افتاد نئی

    پاؤں کسی کا ٹوٹ گیا اور ہاتھ کسی کا جھول پڑا

    باغ میں گلچیں ہے نہ ہے مالی بجلی ہے نہ فلک پہ سحاب

    عہد خزاں میں جلا ہے نشیمن آ کے کہاں سے پھول پڑا

    پاؤں کی طاقت طاق ہوئی تو بند کی آنکھ اور جا پہنچے

    آرزوؔ اس کو خوب کیا کم راستے میں جو طول پڑا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY