پھر بھیگ چلیں آنکھیں چلنے لگی پروائی

رام کرشن مضطر

پھر بھیگ چلیں آنکھیں چلنے لگی پروائی

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    پھر بھیگ چلیں آنکھیں چلنے لگی پروائی

    ہر زخم ہوا تازہ ہر چوٹ ابھر آئی

    پھر یاد کوئی آیا پھر اشک امڈ آئے

    پھر عشق نے سینے میں اک آگ سی بھڑکائی

    برباد محبت کا عالم ہی عجب دیکھا

    سو بار لہو رویا سو بار ہنسی آئی

    رہتا ہے خیالوں میں پھرتا ہے نگاہوں میں

    اک شاہد رنگیں کا وہ عالم رعنائی

    کس رنگ سے گلشن میں وہ جان بہار آیا

    آنچل کی ہوا آئی زلفوں کی گھٹا چھائی

    پھر صحن گلستاں میں اک موج ہوئی رقصاں

    پھر میری نگاہوں میں زنجیر سی لہرائی

    اے حسن ترے در کی عظمت ہے نگاہوں میں

    کب عشق کو آتے تھے آداب جبیں سائی

    کیا کیا دل مضطر کے ارمان مچلتے ہیں

    تصویر قیامت ہے ظالم تری انگڑائی

    اک روح‌ ترنم نے اک جان تغزل نے

    پھر آج نئی دھن میں مضطرؔ کی غزل گائی

    مآخذ
    • Raqs-e-bahar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY