پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی

محمد احمد رمز

پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی

محمد احمد رمز

MORE BYمحمد احمد رمز

    پھر اک تیر سنبھالا اس نے مجھ پہ نظر ڈالی

    آخری نیکی تھی ترکش میں وہ بھی کر ڈالی

    ٹھہرو یہیں اے قافلے والو آیا دشت بلا

    اس نے یہ کہہ کے اپنے سر پر خاک سفر ڈالی

    اور کوئی دنیا ہے تیری جس کی کھوج کروں

    ذہن میں پھر اک سمت بکھیری راہ گزر ڈالی

    ہاتھ ہوا کے بڑھنے لگے ہیں بستی کے اطراف

    دیکھو اس نے چنگاری اب کس کے گھر ڈالی

    چشم فلک کا اک آنسو ہے گردش کرتی زمیں

    کیا پیش آیا جو اس نے بنائے دیدۂ تر ڈالی

    وقت سے پوچھو وقت سے سچا شاہد کوئی نہیں

    کس نے تیغ اٹھائی رن میں کس نے سپر ڈالی

    میں تو بس گوہر سے خالی ایک صدف ہوں رمزؔ

    مشکل ہوگی اس نے کوئی بات اگر ڈالی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY