پھر خوف کا اک رنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

فراغ روہوی

پھر خوف کا اک رنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    پھر خوف کا اک رنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

    درپیش کوئی جنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

    محفوظ کہیں بھی تو نہیں ہے سر انساں

    ہر ہاتھ میں اب سنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

    جائیں تو کہاں جائیں اماں ڈھونڈنے والے

    انساں پہ زمیں تنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

    اللہ رے تجدید رفاقت کی یہ کوشش

    ہر شخص مگر دنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

    پازیب کی جھنکار میں برسات کی لے میں

    اک رنگ اک آہنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

    ہے گرم فراغؔ آج بھی بازار غزل کا

    پر شاعری بے رنگ یہاں بھی ہے وہاں بھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے