پھر کسی حادثے کا در کھولے

آسناتھ کنول

پھر کسی حادثے کا در کھولے

آسناتھ کنول

MORE BY آسناتھ کنول

    پھر کسی حادثے کا در کھولے

    پہلے پرواز کو وہ پر کھولے

    جیسے جنگل میں رات اتری ہو

    یوں اداسی ملی ہے سر کھولے

    پہلے تقدیر سے نمٹ آئے

    پھر وہ اپنے سبھی ہنر کھولے

    منزلوں نے وقار بخشا ہے

    راستے چل پڑے سفر کھولے

    جو سمجھتا ہے زندگی کے رموز

    موت کا در وہ بے خطر کھولے

    ہے کنولؔ خوف رائیگانی کا

    کیسے اس زندگی کا ڈر کھولے

    مآخذ:

    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 662)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2013-14)
    • اشاعت : 2013-14

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY