پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

نور جہاں ثروت

پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

نور جہاں ثروت

MORE BYنور جہاں ثروت

    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا

    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں

    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا

    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے

    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا

    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا

    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا

    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے

    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY