پھر سے بدلے یہاں تہذیب نے تیور اپنے

سنجے مصرا شوق

پھر سے بدلے یہاں تہذیب نے تیور اپنے

سنجے مصرا شوق

MORE BYسنجے مصرا شوق

    پھر سے بدلے یہاں تہذیب نے تیور اپنے

    نوچ کر پھینک دیے جسم سے زیور اپنے

    اس نے شب خون جو مارا تو بچا کچھ بھی نہیں

    ہم اڑاتے ہی رہے چھت پہ کبوتر اپنے

    ایسے زنداں میں ہیں جس میں کہ نہ دیوار نہ در

    اس نے یہ سوچ کے خود کاٹ لئے پر اپنے

    سر پھرا مجھ سا کوئی میرے مقابل بھی تو ہو

    ہر کسی پر نہیں کھلنے کے ہیں جوہر اپنے

    آسماں چھونے کی خواہش نے ہی بخشی پرواز

    ورنہ حالات نے تو کاٹ دیے پر اپنے

    کس پری خانۂ گل گشت میں پہنچا ہوں کہ اب

    آئنے میں بھی ٹھہرتے نہیں پیکر اپنے

    لکھنؤ میں ابھی تہذیب کے تیور ہیں وہی

    اس بھکارن نے تو بدلے نہیں زیور اپنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY