پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے

مجید امجد

پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    پھر تو سب ہم درد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے

    خود ہی لڑے بھنور سے کیوں زحمت کی ہم جو بیٹھے تھے

    دلوں کے علموں سے وہ اجالا تھا ہر چہرہ کالا تھا

    یوں تو کسی نے اپنے بھید کسی کو نہیں بتائے تھے

    ماتھے جب سجدوں سے اٹھے تو صفوں صفوں جو فرشتے تھے

    سب اس شہر کے تھے اور ہم ان سب کے جاننے والے تھے

    اہل حضور کی بات نہ پوچھو کبھی کبھی ان کے دن بھی

    سوز صفا کی اک صفراوی اکتاہٹ میں کٹتے تھے

    قالینوں پر بیٹھ کے عظمت والے سوگ میں جب روئے

    دیمک لگے ضمیر اس عزت غم پر کیا اترائے تھے

    جن کی جیبھ کے کنڈل میں تھا نیش عقرب کا پیوند

    لکھا ہے ان بدسخنوں کی قوم پہ اژدر برسے تھے

    جن کے لہو سے نکھر رہی ہیں یہ سرسبز ہمیشگیاں

    ازلوں سے وہ صادق جذبوں طیب رزقوں والے تھے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 715)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY