پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو

رفعت سیٹھی

پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو

رفعت سیٹھی

MORE BYرفعت سیٹھی

    پھر تم رخ زیبا سے نقاب اپنے اٹھا دو

    اچھا ہے کہ آئینے کو آئینہ دکھا دو

    جب برق کے احساں سے بچانا ہے خودی کو

    خود اپنے ہی نالوں سے نشیمن کو جلا دو

    وہ سامنے آتے نہیں اچھا تو نہ آئیں

    تم جذب محبت سے حجابات اٹھا دو

    گل کر سکیں جس کو نہ ہواؤں کے تھپیڑے

    وہ شمع زمانے میں محبت کی جلا دو

    تم نے تو نظر پھیر لی بھر کر نفس سرد

    لازم تھا کہ بھڑکے ہوئے شعلے کو ہوا دو

    زنداں سے نکلنے کی یہ تدبیر غلط ہے

    زنجیر کے ٹکڑے کرو دیوار گرا دو

    میں یہ نہیں کہتا کہ بجا ہی سہی لیکن

    رفعتؔ پہ بھی بے جا کوئی الزام لگا دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY