پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

اعتبار ساجد

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

    باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

    شام کریں کیسے اس دن کی ٹھنڈی صورت دیکھیں کن کی

    ادھر ادھر تو دھواں اڑاتی آگ اگلتی خلقت ہے

    جس کو ہم نے چاہا تھا وہ کہیں نہیں اس منظر میں

    جس نے ہم کو پیار کیا وہ سامنے والی مورت ہے

    پھول ببول کے اچھے ہیں لیکن ساکت تصویروں میں

    سچ مچ کے صحراؤں کی تو اس دل جیسی صورت ہے

    تیرے بعد دکانوں پر میں جا کر پوچھتا رہتا ہوں

    کیا وہ خوشبو مل سکتی ہے اب اس کی کیا قیمت ہے

    بڑے بڑے سپنے نہیں بوئے میں نے اپنے آنگن میں

    ننھی منی خوشیاں ہیں مری چھوٹی سی اک جنت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY