پھر وہ بے سمت اڑانوں کی کہانی سن کر

بھارت بھوشن پنت

پھر وہ بے سمت اڑانوں کی کہانی سن کر

بھارت بھوشن پنت

MORE BYبھارت بھوشن پنت

    پھر وہ بے سمت اڑانوں کی کہانی سن کر

    سو گیا پیڑ پرندوں کی کہانی سن کر

    کیا یہی خواب کی تعبیر ہوا کرتی ہے

    اڑ گئی نیند بھی آنکھوں کی کہانی سن کر

    آبلے ایسے کبھی پھوٹ کر نا روئے تھے

    جس طرح روئے ہیں کانٹوں کی کہانی سن کر

    ہم وہ صحرا کے مسافر ہیں ابھی تک جن کی

    پیاس بجھتی ہے سرابوں کی کہانی سن کر

    درد کی حد سے گزر کر تو یہی ہونا تھا

    آنکھ پتھرا گئی اشکوں کی کہانی سن کر

    کشتیاں لوٹ تو آئی ہیں مگر اک ساحل

    سوچ میں ڈوبا ہے موجوں کی کہانی سن کر

    تم نے تو صرف بہاروں میں انہیں دیکھا ہے

    تم بکھر جاؤ گے پھولوں کی کہانی سن کر

    سارے کردار سیانے تھے مگر جھوٹے تھے

    لوگ حیران تھے بچوں کی کہانی سن کر

    کتنا آسان تھا بچپن میں سلانا ہم کو

    نیند آ جاتی تھی پریوں کی کہانی سن کر

    ان کو معلوم تھا چہروں کی حقیقت کیا ہے

    چپ رہے آئنے چہروں کی کہانی سن کر

    مآخذ :
    • کتاب : Bechehragi (Pg. 43)
    • Author : bharat bhushan pant
    • مطبع : Suman prakashan Alambagh,Lucknow (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY