پھول اپنے وصف سنتے ہیں اس خوش نصیب سے

وسیم خیر آبادی

پھول اپنے وصف سنتے ہیں اس خوش نصیب سے

وسیم خیر آبادی

MORE BYوسیم خیر آبادی

    پھول اپنے وصف سنتے ہیں اس خوش نصیب سے

    کیا پھول جھڑتے ہیں دہن عندلیب سے

    افشاں تری جبیں کی ہماری نظر میں ہے

    ہم دیکھتے ہیں عرش کے تارے قریب سے

    تنہا لحد میں ہوں تو دباتے ہیں یہ مجھے

    کیا کیا الجھ رہے ہیں ملک مجھ غریب سے

    کعبہ میں ان کا نور مدینے میں ہے ظہور

    آباد دونوں گھر ہیں خدا کے حبیب سے

    یا رب برا ہو دل کی تڑپ کا کہ بزم میں

    بیٹھے وہ دور اٹھ کے ہمارے قریب سے

    مر جاؤں میں تو جاؤ مبارک ہو جان من

    اللہ سے مجھے تمہیں ملنا رقیب سے

    پہلو تہی جو کرتی ہے ملنے میں میری نبض

    کہتے ہیں یہ شریر ملی ہے طبیب سے

    ممنون ہوں میں حضرت نوشادؔ کا وسیمؔ

    ملتے ہیں کیا بہ لطف حضور اس غریب سے

    مأخذ :
    • کتاب : Aqa-e-sukhan waseem Khairabadi hayat aur karname (Pg. 198)
    • Author : Waseem Khairabadi
    • مطبع : Farid Bilgrami, Bilgrami Building Miyan Sarai (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY