پھول اخلاص کے ہونٹوں پہ سجانے والا

رفیق عثمانی

پھول اخلاص کے ہونٹوں پہ سجانے والا

رفیق عثمانی

MORE BYرفیق عثمانی

    پھول اخلاص کے ہونٹوں پہ سجانے والا

    میں ہوں دشمن کو بھی سینے سے لگانے والا

    جا کے پردیس مرے گھر کا پتا بھول گیا

    اپنا بچپن مرے آنگن میں بتانے والا

    اس کی یادوں کو کلیجے سے لگائے رکھیے

    اب نہ آئے گا کبھی لوٹ کے جانے والا

    میرے دشمن تجھے معلوم نہیں ہے شاید

    مارنے والے سے بڑھ کر ہے بچانے والا

    کیسے کرتا میں شکایت بھی کسی کی یارو

    میرا اپنا ہی تھا دل میرا دکھانے والا

    ایسے بچھڑا کہ خیالوں میں بھی آیا نہ رفیقؔ

    کتنا خوددار تھا وہ روٹھ کے جانے والا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY