پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو

احمد سجاد بابر

پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو

احمد سجاد بابر

MORE BYاحمد سجاد بابر

    پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو

    سب کے آنگن میں چہکتی بیٹیوں کی خیر ہو

    جتنے میٹھے لہجے ہیں سب گیت ہوں گے ایک دن

    میٹھے لہجوں سے مہکتی بولیوں کی خیر ہو

    چنریوں میں خواب لے کر چل پڑی ہیں بیٹیاں

    ان پرائے دیس جاتی ڈولیوں کی خیر ہو

    بارشوں کے شور میں کیوں جاگتے ہیں درد بھی

    صحن جاں میں رقص کرتی بدلیوں کی خیر ہو

    رخت دل کو تھام کر وہ آ گئی ہیں ریت پر

    خواہشوں کی خیر ہو ان پگلیوں کی خیر ہو

    اب کبوتر فاختائیں جا چکی ہیں گاؤں سے

    اے خداوند پیڑ کی اور بستیوں کی خیر ہو

    رات ہے بابرؔ کھڑی سیلاب کا بھی زور ہے

    ساحلوں کی مانجھیوں کی کشتیوں کی خیر ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY