Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پھولوں کے دیس چاند ستاروں کے شہر میں

سلام مچھلی شہری

پھولوں کے دیس چاند ستاروں کے شہر میں

سلام مچھلی شہری

MORE BYسلام مچھلی شہری

    پھولوں کے دیس چاند ستاروں کے شہر میں

    برباد ہو رہا ہوں نگاروں کے شہر میں

    موج سمن میں زہر ہے باد صبا میں آگ

    دم گھٹ رہا ہے یاسمیں زاروں کے شہر میں

    آنسو ہوں ہنس رہا ہوں شگوفوں کے درمیاں

    شبنم ہوں جل رہا ہوں شراروں کے شہر میں

    وہ میں ہوں جس نے شعلۂ ساغر اچھال کر

    کی ہے خزاں کی بات بہاروں کے شہر میں

    یہ قلعہ اور یہ مسجد شاہ جہاں کا اوج

    کس درجہ سرنگوں ہوں مناروں کے شہر میں

    اے میری فطرت طرب آگیں خطا معاف

    شرمندہ ہوں میں ظلم کے ماروں کے شہر میں

    بس میں بنوں گا خسرو مہتاب اے سلامؔ

    سوچا ہے یہ دھوئیں کے غباروں کے شہر میں

    مأخذ :
    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 147)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے