پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں

ساغرؔ اعظمی

پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں

ساغرؔ اعظمی

MORE BY ساغرؔ اعظمی

    پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں

    شیشے کے ہیں دروازے پتھر کی دکانوں میں

    کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو

    کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں

    بس ایک ہی ٹھوکر سے گر جائیں گی دیواریں

    آہستہ ذرا چلیے شیشے کے مکانوں میں

    اللہ رے مجبوری بکنے کے لیے اب بھی

    سامان تبسم ہے اشکوں کی دکانوں میں

    آنے کو ہے پھر شاید طوفان نیا کوئی

    سہمے ہوئے بیٹھے ہیں لوگ اپنے مکانوں میں

    شہرت کی فضاؤں میں اتنا نہ اڑو ساغرؔ

    پرواز نہ کھو جائے ان اونچی اڑانوں میں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ساغرؔ اعظمی

    ساغرؔ اعظمی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY