پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گے

عبید الرحمان

پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گے

عبید الرحمان

MORE BYعبید الرحمان

    پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گے

    دنیا میں اگر عشق کے مارے نہ رہیں گے

    دنیائے محبت میں چراغاں نہ ملے گا

    پلکوں پہ اگر اشک ہمارے نہ رہیں گے

    تم چھوڑ کے مت جاؤ مجھے شہر بلا میں

    ورنہ مرے جینے کے سہارے نہ رہیں گے

    طے کر لو سفر شب کا کہ موقع ہے غنیمت

    پھر چرخ بریں پہ یہ ستارے نہ رہیں گے

    غم زیست کے افسانے کا عنوان حسیں ہے

    ہم ہوں گے کہاں غم جو ہمارے نہ رہیں گے

    بے معنی نظر آئیں گے آنکھوں کے صحیفے

    موجود اگر ان میں اشارے نہ رہیں گے

    پھر کس پہ یقیں کیسا بھرم کیسی مروت

    اعضا بھی ہمارے جو ہمارے نہ رہیں گے

    مآخذ :
    • کتاب : Aawaz Ke Saye (Poetry) (Pg. 113)
    • Author : Obaidur Rahman
    • مطبع : Sehla Obaid (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY