پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

شہزاد احمد

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

شہزاد احمد

MORE BY شہزاد احمد

    پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

    معزز ہو گئے ہم بھی شرافت چھوڑ دی ہم نے

    میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں

    امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے

    کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا

    جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے

    یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے

    ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے

    ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی

    تأسف اس قدر گویا وزارت چھوڑ دی ہم نے

    کریں کیا یہ بلا اپنے لیے خود منتخب کی ہے

    گلا باقی رہا لیکن شکایت چھوڑ دی ہم نے

    ستارے اس قدر دیکھے کہ آنکھیں بجھ گئیں اپنی

    محبت اس قدر کر لی محبت چھوڑ دی ہم نے

    جو سوچا ہے عزیزوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتا

    شرارت اب کے یہ کی ہے شرارت چھوڑ دی ہم نے

    الجھ پڑتے اگر تو ہم میں تم میں فرق کیا رہتا

    یہی دیوار باقی تھی سلامت چھوڑ دی ہم نے

    گنہ گاروں میں شامل مدعی بھی اور ملزم بھی

    ترا انصاف دیکھا اور عدالت چھوڑ دی ہم نے

    مآخذ:

    • Book : Deewar pe dastak (Pg. 722)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY