پرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا

شہزاد قیس

پرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا

شہزاد قیس

MORE BYشہزاد قیس

    پرانے گھر کو گرایا تو باپ رونے لگا

    خوشی نے دل سا دکھایا تو باپ رونے لگا

    جو امی نہ رہیں تو کیا ہوا کہ ہم سب ہیں

    جواب بن نہیں پایا تو باپ رونے لگا

    یہ رات کھانستے رہتے ہیں کوفت ہوتی ہے

    بہو نے سب میں جتایا تو باپ رونے لگا

    بٹھا کے رکشے میں کل شب روانہ کرتے ہوئے

    دیا جو میں نے کرایہ تو باپ رونے لگا

    ہمیں بنا دئے کمرے خود اس کو ٹی وی پر

    مدینہ جب نظر آیا تو باپ رونے لگا

    کل اس کے دوست کو باہر سے ٹالنے کے بعد

    اسے فقیر بتایا تو باپ رونے لگا

    بہن روانگی سے پہلے پیار لینے گئی

    جو کچھ بھی دے نہیں پایا تو باپ رونے لگا

    کیا ہی کیا ہے بھلا آج تک ہمارے لیے

    سوال جوں ہی اٹھایا تو باپ رونے لگا

    طبیب کہتا تھا پاگل کو کچھ بھی یاد نہیں

    گلے سے میں نے لگایا تو باپ رونے لگا

    نہ جانے قیسؔ نے کس جذبے سے یہ کیا لکھا

    کہ جوں ہی پڑھ کے سنایا تو باپ رونے لگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY