پوچھ مت کتنی پریشانی ہوا کرتی ہے

فرخ عدیل

پوچھ مت کتنی پریشانی ہوا کرتی ہے

فرخ عدیل

MORE BYفرخ عدیل

    پوچھ مت کتنی پریشانی ہوا کرتی ہے

    جب بھرے شہر میں ویرانی ہوا کرتی ہے

    تیرے سینے سے لگا ہوں تو کھلا ہے مجھ پر

    سانس لینے میں بھی آسانی ہوا کرتی ہے

    چند اک پھول ہی ہوتے ہیں بھرے گلشن میں

    جن کے جھڑنے پہ پشیمانی ہوا کرتی ہے

    یہ جو درویش نظر آتے ہیں بھوکے پیاسے

    ان کے پیروں تلے سلطانی ہوا کرتی ہے

    دور مت بھاگ نہ ڈر جھلسے ہوئے پیڑ ہیں ہم

    اپنی خواہش تو فقط پانی ہوا کرتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Word File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY