پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی

سلیمان اریب

پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی

سلیمان اریب

MORE BYسلیمان اریب

    پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی

    کعبہ و دیر سے مطلب نہیں ہوتا کوئی

    سچ تو یہ ہے کہ میں ہر بزم میں تنہا ہی رہا

    یوں مگر پاس مرے کب نہیں ہوتا کوئی

    جان و ایماں سہی سب کچھ سہی تو مرے لیے

    ہائے کس منہ سے کہوں سب نہیں ہوتا کوئی

    ایک سایہ تھا جسے میں نے پکڑنا چاہا

    وہ جو ہوتا تھا کوئی اب نہیں ہوتا کوئی

    چاندنی پھول ہوا جام ستارے خوشبو

    زہر کے نام ہیں جس شب نہیں ہوتا کوئی

    مجھ کو خود مجھ سے بھی ملنے نہیں دیتی دنیا

    چھپ کے ملتا ہوں کبھی جب نہیں ہوتا کوئی

    جس کو مل جائے یہ دولت ہو مبارک اس کو

    شعر سب کے لئے منصب نہیں ہوتا کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY