پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہوگی

نور جہاں ثروت

پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہوگی

نور جہاں ثروت

MORE BYنور جہاں ثروت

    پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہوگی

    ریت پر لکھی ہوئی میری کہانی ہوگی

    وقت الفاظ کا مفہوم بدل دیتا ہے

    دیکھتے دیکھتے ہر بات پرانی ہوگی

    کر گئی جو مری پلکوں کے ستارے روشن

    وہ بکھرتے ہوئے سورج کی نشانی ہوگی

    پھر اندھیرے میں نہ کھو جائے کہیں اس کی صدا

    دل کے آنگن میں نئی شمع جلانی ہوگی

    اپنے خوابوں کی طرح شاخ سے ٹوٹے ہوئے پھول

    چن رہی ہوں کوئی تصویر سجانی ہوگی

    بے زباں کر گیا مجھ کو تو سوالوں کا ہجوم

    زندگی آج تجھے بات بنانی ہوگی

    کر رہی ہے جو مرے عکس کو دھندلا ثروتؔ

    میں نے دنیا کی کوئی بات نہ مانی ہوگی

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Pyas jo bujh na saki uski nishani hogi عذرا نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY