پیاسی تھی یہ خود مرے لہو کی

جاوید لکھنوی

پیاسی تھی یہ خود مرے لہو کی

جاوید لکھنوی

MORE BYجاوید لکھنوی

    پیاسی تھی یہ خود مرے لہو کی

    تھی تیز چھری رگ گلو کی

    دل کھو کے نہ میں نے جستجو کی

    سمجھا تھا کہ بوند تھی لہو کی

    تم پاس جو آئے کھو گئے ہم

    جب تم نہ ملے تو جستجو کی

    سب زخم کے ٹانکے ساتھ ٹوٹے

    حاجت نہ رہی کوئی رفو کی

    خود کھو گئے ہم جہاں میں آخر

    اس حد پہ کسی کی جستجو کی

    دیکھا کہ زمیں سے آگ نکلی

    جب بوند ٹپک پڑی لہو کی

    روئی وہاں شمع یاں ہنسے پھول

    وہ قبر مری تھی یہ عدو کی

    وہ سامنے آئے غش ہوئے یہ

    موسیٰ کی نظر کہاں پہ چوکی

    تیروں پہ کسی کے بانٹ بھی دوں

    کھائی تھی قسم اسی لہو کی

    اس داغ کو میں نے دل میں رکھا

    دشمن نے نہ جس کی آرزو کی

    جاویدؔ وہ لاش کیوں اٹھائیں

    مرضی بھی تو پوچھ لیں عدو کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY