قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ

قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

    سرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیں

    زلف شب رنگ کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

    شب تاریک میں فریاد کیا کرتے ہیں

    نگۂ یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

    دیکھ کر برق کو فریاد کیا کرتے ہیں

    کوچۂ یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

    جا کے گل زار میں فریاد کیا کرتے ہیں

    گھر جو بے یار ہے ویراں تو تصور میں مدام

    خانۂ دل کو ہم آباد کیا کرتے ہیں

    رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی

    دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں

    گزرے ہیں کوچۂ کاکل سے صبا کے جھونکے

    نکہت گل کو جو برباد کیا کرتے ہیں

    ہوتے ہیں جاتے ہی مکتب میں پری رو خوں ریز

    کیا یہ جلادوں کو استاد کیا کرتے ہیں

    پھونک دیں نالۂ سوزاں سے اگر چاہیں قفس

    ہم فقط خاطر صیاد کیا کرتے ہیں

    ہوتی ہے آفت خط قہر خدا سے نازل

    یہ صنم ہم پہ جو بیداد کیا کرتے ہیں

    ملک الموت اگر کہیے انہیں تو ہے بجا

    قتل بے تیغ پری زاد کیا کرتے ہیں

    تو وہ صیاد ہے جو وار کے تجھ پر لاکھوں

    طائر روح کو آزاد کیا کرتے ہیں

    انتقام اس کا کہیں لے نہ فلک ڈرتا ہوں

    جھوٹے وعدوں سے جو وہ شاد کیا کرتے ہیں

    تیرا دیوان ہے کیا سامنے ان کے ناسخؔ

    جو کہ قرآن پہ ایراد کیا کرتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY