قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

بہادر شاہ ظفر

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

بہادر شاہ ظفر

MORE BYبہادر شاہ ظفر

    قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

    دنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا

    منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرا

    مجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا

    ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھال

    ورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا

    دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرے

    جیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا

    چوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑے

    ہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا

    جس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھی

    آنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY