قدم جب گھر سے باہر کانچ کے پیکر اٹھاتے ہیں
قدم جب گھر سے باہر کانچ کے پیکر اٹھاتے ہیں
تو پھر ہاتھوں میں اپنے لوگ بھی پتھر اٹھاتے ہیں
ہماری ناؤ جو بچ کر نکل آئی ہے طوفاں سے
اسے غرقاب کرنے اب کنارے سر اٹھاتے ہیں
میں اک مجبور ہوں مظلوم ہوں اس شہر میں شاید
جبھی تو لوگ مجھ پر انگلیاں اکثر اٹھاتے ہیں
ہماری زندگی کا ہے یہی دراصل سرمایہ
غموں کا بوجھ بھی ہم روز و شب ہنس کر اٹھاتے ہیں
یقیناً رخ بدل لیتی ہیں پھر سرکش ہوائیں بھی
جو ہم اپنے سفینے کا کبھی لنگر اٹھاتے ہیں
فقط کچھ نقرئی سکوں کی خاطر آج اہل فن
قلم کس پر اٹھانا تھا قلم کس پر اٹھاتے ہیں
ہزیمت دونوں عالم میں فقط ان کا مقدر ہے
جو بچے سامنے اپنے بڑوں کے سر اٹھاتے ہیں
نکلتے ہیں جو آنسو دوستو چشم ندامت سے
فرشتے آسماں سے آ کے یہ گوہر اٹھاتے ہیں
جو تقلید پیمبر کو شعار زندگی کر لیں
مزہ جینے کا ایسے لوگ ہی بہتر اٹھاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.