قدم قدم پہ ہے انداز دل ربائی کا

میر شمس الدین فیض

قدم قدم پہ ہے انداز دل ربائی کا

میر شمس الدین فیض

MORE BYمیر شمس الدین فیض

    قدم قدم پہ ہے انداز دل ربائی کا

    ستارہ اوج پہ ہے ان کی زیر پائی کا

    نہیں ہے پاس مسیحا کے بھی دوا اس کی

    کسی کو روگ خدایا نہ ہو جدائی کا

    وہ کوہ کن ہوں اجل مجھ کو خواب شیریں ہے

    گماں جنازہ پہ ہوتا ہے چارپائی کا

    خدا سے عرض کروں گا جو سامنا ہوگا

    بتوں کی ذات میں جوہر ہے بے وفائی کا

    ہمیں کل آئی نہیں آج تک کسی پہلو

    بندھا ہے جب سے تصور تری کلائی کا

    جناب فیضؔ یہ بدمستیاں بتوں کے ساتھ

    ڈرو خدا سے یہ موسم ہے پارسائی کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY