قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے

منّان بجنوری

قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے

منّان بجنوری

MORE BYمنّان بجنوری

    قدم سو من کے لگتے ہیں کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے

    کوئی امید جب بر آتی آتی ٹوٹ جاتی ہے

    دریچے بند ذہنوں کے نہیں کھلتے ہیں طاقت سے

    لگا ہو زنگ تالے میں تو چابی ٹوٹ جاتی ہے

    تری الفت میں ایسا حال ہے جیسے کوئی مچھلی

    نگل لیتی ہے کانٹا اور لگی ٹوٹ جاتی ہے

    جدھر کے ہو ادھر کے ہو رہو دل سے تو بہتر ہے

    کہ لوٹا بے تلی کا ہو تو ٹونٹی ٹوٹ جاتی ہے

    اکڑ کر بولنے والے نہ ہو گر تان آٹے میں

    توے سے قبل ہی ہاتھوں میں روٹی ٹوٹ جاتی ہے

    چونی کے نہ تڑوانے پہ ہم سے روٹھنے والے

    کہاں ہے تو کہ آ اب سو کی گڈی ٹوٹ جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے