قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا

راجیندر منچندا بانی

قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا

    ہوا بندھی تھی یہاں پیٹھ پر سنبھلتے کیا

    پھر اس کے ہاتھوں ہمیں اپنا قتل بھی تھا قبول

    کہ آ چکے تھے قریب اتنے بچ نکلتے کیا

    یہی سمجھ کے وہاں سے میں ہو لیا رخصت

    وہ چلتے ساتھ مگر دور تک تو چلتے کیا

    تمام شہر تھا اک موم کا عجائب گھر

    چڑھا جو دن تو یہ منظر نہ پھر پگھلتے کیا

    وہ آسماں تھے کہ آنکھیں سمیٹتیں کیسے

    وہ خواب تھے کہ مری زندگی میں ڈھلتے کیا

    نباہنے کی اسے بھی تھی آرزو تو بہت

    ہوا ہی تیز تھی اتنی چراغ جلتے کیا

    اٹھے اور اٹھ کے اسے جا سنایا دکھ اپنا

    کہ ساری رات پڑے کروٹیں بدلتے کیا

    نہ آبروئے تعلق ہی جب رہی بانیؔ

    بغیر بات کئے ہم وہاں سے ٹلتے کیا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 72)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے