قفس نصیبوں کا اف حال زار کیا ہوگا

آسی رام نگری

قفس نصیبوں کا اف حال زار کیا ہوگا

آسی رام نگری

MORE BYآسی رام نگری

    قفس نصیبوں کا اف حال زار کیا ہوگا

    پھر آ رہی ہے چمن میں بہار کیا ہوگا

    دل و جگر پہ لیے ہوں گے زخم کتنوں نے

    کوئی ہماری طرح دل فگار کیا ہوگا

    اسی خیال سے میں عرض شوق کر نہ سکا

    حیا سے رنگ رخ تاب دار کیا ہوگا

    بہار دے نہ سکی ایک پھول کو بھی نکھار

    خزاں کے ساتھ ہے رنگ بہار کیا ہوگا

    فسردہ لالہ و گل ہیں روش روش ہے اداس

    چمن میں ایسے میں جشن بہار کیا ہوگا

    خدنگ ناز نے کچھ اس طرح کیا زخمی

    جو دل کے زخم ہیں ان کا شمار کیا ہوگا

    کبھی کی ٹوٹ گئی آس رات بھیگ گئی

    کسی کے آنے کا اب انتظار کیا ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY