قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

محسن نقوی

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

    اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ

    اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر

    سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ

    سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں

    حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ

    کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے

    شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ

    ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا

    سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ

    رزق ملبوس مکاں سانس مرض قرض دوا

    منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ

    دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسنؔ

    آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY