قطرہ دریائے آشنائی ہے

فانی بدایونی

قطرہ دریائے آشنائی ہے

فانی بدایونی

MORE BYفانی بدایونی

    قطرہ دریائے آشنائی ہے

    کیا تری شان کبریائی ہے

    تیری مرضی جو دیکھ پائی ہے

    خلش درد کی بن آئی ہے

    وہم کو بھی ترا نشاں نہ ملا

    نارسائی سی نارسائی ہے

    کون دل ہے جو دردمند نہیں

    کیا ترے درد کی خدائی ہے

    جلوۂ یار کا بھکاری ہوں

    شش جہت کاسۂ گدائی ہے

    موت آتی ہے تم نہ آؤگے

    تم نہ آئے تو موت آئی ہے

    بچھ گئے راہ یار میں کانٹے

    کس کو عذر برہنہ پائی ہے

    ترک امید بس کی بات نہیں

    ورنہ امید کب بر آئی ہے

    مژدۂ جنت وصال ہے موت

    زندگی محشر جدائی ہے

    آرزو پھر ہے در پئے تدبیر

    سعی ناکام کی دہائی ہے

    موت ہی ساتھ دے تو دے فانیؔ

    عمر کو عذر بے وفائی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY