قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ

ابرار احمد

قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ

ابرار احمد

MORE BYابرار احمد

    قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ

    پانی میں ہے کیا اور بھی پانی سے زیادہ

    اس خاک میں پنہاں ہے کوئی خواب مسلسل

    ہے جس میں کشش عالم فانی سے زیادہ

    نخل گل ہستی کے گل و برگ عجب ہیں

    اڑتے ہیں یہ اوراق خزانی سے زیادہ

    ہر رخ ہے کہیں اپنے خد و خال سے باہر

    ہر لفظ ہے کچھ اپنے معانی سے زیادہ

    وہ حسن ہے کچھ حسن کے آزار سے بڑھ کر

    وہ رنگ ہے کچھ اپنی نشانی سے زیادہ

    ہم پاس سے تیرے کہاں اٹھ آئے ہیں یہ دیکھ

    اب اور ہو کیا نقل مکانی سے زیادہ

    اس شب میں ہو گریہ کوئی تاریکی سے گہرا

    ہو کوئی مہک رات کی رانی سے زیادہ

    ہم کنج تمنا میں رہیں گے کہ ابھی تک

    ہے یاد تری یاد دہانی سے زیادہ

    اب ایسا زبوں بھی تو نہیں حال ہمارا

    ہے زخم عیاں درد نہانی سے زیادہ

    مأخذ :
    • کتاب : Gaflat ke barabar (Pg. 71)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY