قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

شیر سنگھ ناز دہلوی

قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

شیر سنگھ ناز دہلوی

MORE BYشیر سنگھ ناز دہلوی

    قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہوا

    جو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا برہم ہوا

    تھامنا مشکل دل مضطر کو شام غم ہوا

    یاد آتے ہی کسی کی حشر کا عالم ہوا

    کیا بتائیں کس طرح گزری شب وعدہ مری

    منتظر آنکھیں رہیں دل کا عجب عالم ہوا

    دیکھتے رہتے ہیں اس میں سارے عالم کا ظہور

    آئینہ دل کا ہمارے رشک جام جم ہوا

    وہ عدو کو ساتھ لائے ہیں مرے گھر دیکھیے

    شربت دیدار کے نسخے میں داخل سم ہوا

    آپ کے تیر نظر سے دل کا بچنا ہے محال

    جس کو دیکھا آنکھ بھر کر بس وہی ہم دم ہوا

    کس قدر تسکین رنجور محبت کو ہوئی

    پیار سے دیکھا جو اس نے زخم کو مرہم ہوا

    جب اٹھایا یار نے روئے منور سے نقاب

    گر پڑا غش کھا کے کوئی اور کوئی بے دم ہوا

    گلشن ہستی میں انساں کی نہیں کچھ زندگی

    جو ہوا پیدا مثال قطرۂ شبنم ہوا

    گیسوئے پر خم ہوئے ان کے پریشاں سوگ میں

    میرے مرنے سے دیار حسن میں ماتم ہوا

    بعد مرنے کے ہوا دنیا میں یوں مشہور نازؔ

    شان سے تابوت اٹھا دھوم کا ماتم ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY