قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

سلیم کوثر

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

    کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں

    کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی

    کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں

    شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول

    اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں

    پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی

    ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں

    یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن

    پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں

    اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوا

    منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں

    کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ

    سرپھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY