قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے

خورشید طلب

قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے

    دیے بجھانے میں شامل ہوا ہماری بھی ہے

    بہت عزیز ہمیں تیری دوستی ہے مگر

    اگر غرور ہے تجھ میں انا ہماری بھی ہے

    ہمیں بھی زیب سماعت کبھی بنایا جائے

    دبی دبی ہی سہی اک صدا ہماری بھی ہے

    کسی نے دل پہ مرے ہاتھ رکھ کے پوچھا تھا

    تری بہشت میں کیا کوئی جا ہماری بھی ہے

    ہم اس زمین سے کس طرح دست کش ہو جائیں

    اسی زمین کے اندر غذا ہماری بھی ہے

    ہر ایک آنکھ میں خود کو تلاش کرتے ہیں

    ابھی شناخت طلبؔ گم شدہ ہماری بھی ہے

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے خورشید طلب

    مآخذ
    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY