رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر

فضا ابن فیضی

رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    رائیگاں سب کچھ ہوا کیسی بصیرت کیا ہنر

    گرد گرد اپنی بصیرت خاک خاک اپنا ہنر

    جس طرف دیکھو ہجوم چہرۂ بے چہرگاں

    کس گھنے جنگل میں یارو گم ہوا سب کا ہنر

    اب ہماری مٹھیوں میں ایک جگنو بھی نہیں

    چھین کر بے رحم موسم لے گیا سارا ہنر

    توڑ کر اس کو بھی اب کوئی ہوا لے جائے گی

    یہ جو برگ سبز کے مانند ہے میرا ہنر

    اب کہاں دل کے لہو میں بھیگی بھیگی آگہی

    جیب میں ہم بھی لیے پھرتے ہیں مانگے کا ہنر

    دیکھنا ہیں کھیلنے والوں کی چابک دستیاں

    تاش کا پتا سہی میرا ہنر تیرا ہنر

    گرمی پہلو یہی تشکیک و لا علمی کی آنچ

    ذوق گمشدگی سے ہم ہیں با خبر یا با ہنر

    بس یہی خاکستر جاں ہے یہاں اپنی شناخت

    ہو گیا سارا بدن جب راکھ تو چمکا ہنر

    شخصیت کا یہ توازن تیرا حصہ ہے فضاؔ

    جتنی سادہ ہے طبیعت اتنا ہی تیکھا ہنر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY