راحت نظر بھی ہے وہ عذاب جاں بھی ہے

محمود شام

راحت نظر بھی ہے وہ عذاب جاں بھی ہے

محمود شام

MORE BYمحمود شام

    راحت نظر بھی ہے وہ عذاب جاں بھی ہے

    اس سے ربط لذت بھی اور امتحاں بھی ہے

    فاصلے مٹے بھی ہیں اور کچھ بڑھے بھی ہیں

    یہ سفر ضروری ہے اور رائیگاں بھی ہے

    عمر بھر کی الجھن دے ایک پل کا نظارہ

    تیرا غم حقیقت بھی اور بے نشاں بھی ہے

    تیری میٹھی باتوں میں جھیل جھیل آنکھوں میں

    آگ بھی سلگتی ہے درد سے اماں بھی ہے

    طے کریں تو ہم کیسے فاصلے دل و جاں کے

    ایک یہ انا کا پل اپنے درمیاں بھی ہے

    لاکھ میں تجھے بھولوں لاکھ تو مجھے بھولے

    ایک رشتۂ بے نام اپنے درمیاں بھی ہے

    عشق دل میں طغیانی برف برف ہونٹوں پر

    سرپھری بھی ہے چاہت اور بے زباں بھی ہے

    تیری زندگی سرگرم میری زندگی الجھن

    رقص میں بھی ہے خواہش اور سرگراں بھی ہے

    شامؔ جانے کیوں ہم نے سی لیا ہے ہونٹوں کو

    ورنہ اپنے ہاتھوں میں وقت کی عناں بھی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY