راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

اسعد بدایونی

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

اسعد بدایونی

MORE BYاسعد بدایونی

    راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

    پھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی

    سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنی

    مرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی

    جم گئی دھول ملاقات کے آئینوں پر

    مجھ کو اس کی نہ اسے میری ضرورت کوئی

    میں نے دنیا کو سدا دل کے برابر سمجھا

    کام آئی نہ بزرگوں کی نصیحت کوئی

    سرمئی شام کے ہم راہ پرندوں کی قطار

    دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بشارت کوئی

    بجھتی آنکھوں کو کسی نور کے دریا کی تلاش

    ٹوٹتی سانس کو زنجیر ضرورت کوئی

    تو نے ہر نخل میں کچھ ذوق نمو رکھا ہے

    اے خدا میرے پنپنے کی علامت کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY